المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
بَابُ سورة الأنفال باب: سورۂ انفال۔
حدیث نمبر: 3615
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا أَبُو حَيْوَةَ شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنِ الْمُلَيْكِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللهُ يَعْلَمُهُمْ قَالَ : " هُمُ الْجِنُّ " قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يُخَبِّلُ أَحَدًا فِي دَارٍ فِيهَا فَرَسٌ عَتِيقٌ " .ترجمہ
سیدنا ملیکی کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لَا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ﴾ [سورة الأنفال: 60] کے متعلق فرمایا کہ ”ان سے مراد جنات ہیں“، نیز رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک شیطان کسی ایسے گھر میں کسی کو ذہنی اذیت یا حواس باختگی کا شکار نہیں کرتا جس میں کوئی اصیل اور عمدہ نسل کا گھوڑا موجود ہو“۔
اس حدیث کو حارث بن ابی اسامہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں سعید بن سنان اور عمرو بن مالک ملیکی دونوں ضعیف راوی ہیں، جس کی وجہ سے یہ روایت سنداً کمزور ہے۔