المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
بَابُ سورة الأنفال باب: سورۂ انفال۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ ، ثَنَا عُقْبَةُ بْنُ صُهْبَانَ وَأَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ قَالَا : سَمِعْنَا الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ : وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً فَلَقَدْ تَلَوْتُ هَذِهِ الْآيَةَ زَمَانًا ، وَاتَّقُوا فِتْنَةً زَمَانًا وَمَا أُرَانِي مِنْ أَهْلِهَا ، فَأَصْبَحْنَا مِنْ أَهْلِهَا .عقبہ بن صہبان اور ابورجاء العطاردی سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً﴾ [سورة الأنفال: 25] تلاوت کیا اور فرمایا: ”میں ایک طویل عرصے تک اس آیت کی تلاوت کرتا رہا اور مجھے ہرگز یہ گمان نہیں تھا کہ میں اس فتنے کا شکار ہونے والوں میں شامل ہوں گا، مگر اب ہم خود اس آزمائش کی زد میں آ چکے ہیں۔“
اسے امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں صلت بن دینار ضعیف ہے، تاہم سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے اس کا مفہوم دیگر معتبر اسانید سے بھی ثابت ہے۔