المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
بَابُ سورة الأنفال باب: سورۂ انفال۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ : قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّفَلِ ، فَقَالَ : " الْفَرَسُ مِنَ النَّفَلِ ، وَالسَّلَبِ مِنَ النَّفَلِ قَالَ : فَأَعَادَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : هَذَا مِثْلُ صَنِيعِصَبِيغٍ الَّذِي ضَرَبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " .قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ”نفل“ (یعنی مالِ غنیمت کے اضافی عطیے) کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے جواب دیا: ”لڑائی میں کام آنے والا گھوڑا «النَّفَل» ”نفل“ میں شامل ہے اور «السَّلَب» ”سلب“ (یعنی مقتول دشمن کا ذاتی ساز و سامان اور ہتھیار) بھی نفل ہی کا حصہ ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ اس شخص نے (نا معلوم وجہ سے) اپنا وہی سوال دوبارہ دہرایا، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (اس کی اس بے جا تکرار پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے) فرمایا: ”تیرا یہ طرزِ عمل بالکل صبیغ (بن عسل) کے اس فعل کی طرح ہے جسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (اسی طرح کے غیر ضروری اور فتنہ پرور سوالات کی پاداش میں) مارا تھا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اسے امام ابوداؤد نے (حدیث نمبر: 2741) اور امام احمد نے (حدیث نمبر: 3067) میں روایت کیا ہے، یہ روایت علمی مجالس میں بے جا تکرار اور کثرتِ سوال کی مذمت پر دلالت کرتی ہے۔