المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
بَابُ سورة الأنفال باب: سورۂ انفال۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عَطَاءٍ وَأَبِي سَوْرَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَنَصَرَهَا اللهُ تَعَالَى وَفَتَحَ عَلَيْهَا ، وَكَانَ مَنْ أَتَاهُ بِشَيْءٍ نَفَلَهُ مِنْ بَعْدِ الْخُمُسِ ، فَرَجَعَ رِجَالٌ وَكَانُوا يَسْتَقْدِمُونَ ، وَيَأْسِرُونَ ، وَيَقْتُلُونَ ، وَتَرَكُوا الْغَنَائِمَ خَلْفَهُمْ وَلَمْ يَنَالُوا مِنَ الْغَنَائِمِ خَلْفَهُمْ ، وَلَمْ يَنَالُوا مِنَ الْغَنَائِمِ شَيْئًا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا بَالُ رِجَالٍ مِنَّا يَسْتَقْدِمُونَ ، وَيَأْسِرُونَ ، وَتَخَلَّفَ رِجَالٌ لَمْ يَصِلُوا بِالْقِتَالِ ، فَنَفَلْتَهُمْ مِنَ الْغَنِيمَةِ ؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ
فَدَعَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمْ : " رُدُّوا مَا أَخَذْتُمْ ، وَاقْسِمُوهُ بَيْنَكُمْ بِالْعَدْلِ وَالسَّوِيَّةِ " فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، قَدْ أَنْفَقْنَا وَأَكَلْنَا . قَالَ : " فَاحْتَسِبُوا بِذَلِكَ " .سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے نصرت عطا فرمائی اور اسے فتح نصیب ہوئی، اور آپ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ جو مجاہد کوئی چیز لاتا، آپ ﷺ خمس (پانچواں حصہ) نکالنے کے بعد اسے بطورِ انعام (نفل) عطا فرما دیتے تھے۔ پس کچھ ایسے لوگ واپس آئے جو میدانِ جنگ میں سب سے پیش پیش رہے تھے، انہوں نے دشمنوں کو قیدی بنایا اور انہیں قتل کیا تھا، لیکن انہوں نے مالِ غنیمت کو اپنے پیچھے ہی چھوڑ دیا تھا اور اس مال میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا تھا۔ انہوں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ان لوگوں کا کیا معاملہ ہے جو ہم میں سے آگے بڑھے، قیدی بنائے (اور جانفشانی دکھائی)، جبکہ کچھ لوگ پیچھے رہ گئے جو قتال میں شریک نہ ہو سکے، مگر آپ نے انہیں بھی مالِ غنیمت میں سے انعام عطا فرما دیا؟“ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے، یہاں تک کہ جبریل علیہ السلام یہ آیت لے کر نازل ہوئے: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] یعنی ”وہ آپ سے «الأنفال» (غنیمتوں) کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیں کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں، پس اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو۔“
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے انہیں طلب فرمایا اور ان سے ارشاد فرمایا: ”جو کچھ تم نے (بطورِ انعام) لیا ہے اسے واپس کر دو اور اسے اپنے درمیان عدل اور برابری کے ساتھ تقسیم کرو۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! ہم تو اسے خرچ کر چکے اور کھا پی چکے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر اسے اپنے حق میں اللہ سے ثواب کی امید (احتساب) کا ذریعہ سمجھو۔“