❮
❯
حدیث نمبر: 3612
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَسْخِ ، أَيَكُونُ لَهُ نَسْلٌ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مُسِخَ أَحَدٌ قَطُّ فَكَانَ لَهُ نَسْلٌ وَلَا عَقِبٌ "
قُلْتُ : هُوَ عِنْدَ مُسْلِمٍ مِنْ طَرِيقِ الْمَعْرُورِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سَأَلَتْ ، وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ ، وَلَيْثٌ وَاهِي الْحِفْظِ .
ترجمہ

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مسخ (یعنی عذاب کے طور پر انسانی صورتوں کے جانوروں میں تبدیل ہونے) کے متعلق دریافت کیا کہ کیا ایسی صورت میں اس کی کوئی نسل ہوتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی کی صورت مسخ کی گئی ہو اور پھر اس کی کوئی نسل رہی ہو یا اس کی کوئی اولاد آگے چلی ہو۔“
میں کہتا ہوں: یہ روایت امام مسلم کے ہاں معرور کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ سوال کیا تھا، اور یہی روایت صحیح ہے، جبکہ (زیرِ بحث سند کے راوی) لیث حافظے کے اعتبار سے کمزور ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3612
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 12595، 12596، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7560»