المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَعْرَافِ باب: سورۂ اعراف۔
حدیث نمبر: 3609
وزاد الْحَارِثُ: وَقَالَ الْكَلْبِيُّ: قَوْمٌ اسْتَوَتْ حَسَنَاتُهُمْ وَسَيِّئَاتُهُمْ، فَمُنِعُوا الْجَنَّةَ والنار، وسيدخلهم اللَّهُ تعالى فِي رَحْمَتِهِ وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ (قتيلا) أَمْ لَا.ترجمہ
اور امام حارث رحمہ اللہ نے (اپنی روایت میں) یہ اضافہ کیا: کلبی کہتے ہیں: (اصحابِ اعراف) وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہو گئیں، تو انہیں جنت اور جہنم (دونوں) سے روک دیا گیا، اور اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ (راوی کہتا ہے:) مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے لفظ «قتیلاً» ذکر کیا یا نہیں۔