المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَعْرَافِ باب: سورۂ اعراف۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ الْهِلَالِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا أَصْحَابُ الْأَعْرَافِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَوْمٌ خَرَجُوا فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى بِغَيْرِ إِذْنِ آبَائِهِمْ ، فَاسْتُشْهِدُوا فَمَنَعَتْهُمُ الشَّهَادَةُ أَنْ يَدْخُلُوا النَّارَ ، وَمَنَعَتْهُمُ الْمَعْصِيَةُ أَنْ يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ .
3611 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَهُ .سیدنا مالک الہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عرض گزار نے سوال کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اصحابِ اعراف (وہ لوگ جو جنت و دوزخ کے درمیان بلند مقام پر ہوں گے) کون ہیں؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے والدین کی اجازت حاصل کیے بغیر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے اور پھر شہید کر دیے گئے؛ پس ان کی شہادت نے تو انہیں جہنم میں داخل ہونے سے روک دیا، لیکن (والدین کی) نافرمانی نے انہیں جنت میں (فوری) داخلے سے محروم کر دیا۔“
امام حارث نے اسی طرح کی ایک اور روایت محمد بن عمر، ابراہیم بن جعفر، زہری، سہیل اور ان کے والد کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسی مفہوم کی حدیث ارشاد فرمائی۔