المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَعْرَافِ باب: سورۂ اعراف۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَا : أَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ شِبْلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَصْحَابِ الْأَعْرَافِ ؟ قَالَ : هُمْ قَوْمٌ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَعْصِيَةِ آبَائِهِمْ ، فَمَنَعَهُمْ مِنَ النَّارِ قَتْلُهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمَنَعَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ مَعْصِيَتُهُمْ آبَاءَهُمْ
3609 - وَزَادَ الْحَارِثُ : وَقَالَ الْكَلْبِيُّ : قَوْمٌ اسْتَوَتْ حَسَنَاتُهُمْ وَسَيِّئَاتُهُمْ ، فَمُنِعُوا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ ، وَسَيُدْخِلُهُمُ اللهُ تَعَالَى فِي رَحْمَتِهِ ، وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ قَتِيلًا أَمْ لَا .سیدنا محمد بن عبدالرحمان مزنی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اصحابِ اعراف کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ عزوجل کی راہ میں اس حال میں قتل ہوئے کہ وہ اپنے باپوں کے نافرمان تھے، پس اللہ کی راہ میں ان کے قتل (شہادت) نے انہیں جہنم سے روک دیا اور اپنے والدین کی نافرمانی نے انہیں جنت میں داخل ہونے سے روک دیا“
حارث نے یہ اضافہ کیا ہے کہ کلبی نے کہا: ”یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہو گئیں، چنانچہ انہیں جنت اور دوزخ (دونوں) سے روک دیا گیا ہے اور عنقریب اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت میں داخل فرما دے گا“، راوی کہتے ہیں کہ مجھے علم نہیں کہ انہوں نے مقتول (شہید) کا ذکر کیا ہے یا نہیں۔