المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَعْرَافِ باب: سورۂ اعراف۔
حدیث نمبر: 3607
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : سَمِعْتُ تُبَيْعَ بْنَ امْرَأَةِ كَعْبٍ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ قَالَ : الْأَرْضُ مِنْهَا خَلَقَ اللهُ تَعَالَى آدَمَ ، وَفِيهَا يُدْفَنُونَ إِذَا مَاتُوا ، وَمِنْهَا يُخْرَجُونَ ، تُمْطِرُ السَّمَاءُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَيَخْرُجُ الْمَوْتَى مِنَ الْأَرْضِ .
وَلَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے تبیع بن امرأۃ کعب کو اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالی شان ﴿فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ﴾ [سورة الأعراف: 25] کی تفسیر میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ: ”اس سے مراد زمین ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا، اسی میں انسان مرنے کے بعد دفن کیے جاتے ہیں اور اسی سے وہ دوبارہ نکالے جائیں گے؛ (قیامت سے قبل) آسمان سے چالیس راتوں تک مسلسل بارش برسے گی جس کے نتیجے میں مردے زمین سے (نباتات کی طرح) برآمد ہو جائیں گے۔“
اور اس روایت کے لیے صحیح (احادیث) میں شاہد موجود ہے۔