المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَنْعَامِ باب: سورہ انعام۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَمْرٍو ( الْعَنْقَزِيُّ ) ، ثَنَا أَبِي ، ثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ أَبِي الْكَنُودِ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ قَالَ : جَاءَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَوَجَدُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا مَعَ بِلَالٍ وَصُهَيْبٍ وَخَبَّابٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَنَاسٍ مِنَ الضُّعَفَاءِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَلَمَّا رَأَوْهُمْ حَوْلَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقَرُوهُمْ ، فَأَتَوْهُ فَخَلَوْا بِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّا نُحِبُّ أَنْ تَجْعَلَ لَكَ مِنْكَ مَجْلِسًا تَعْرِفُ لَنَا بِهِ الْعَرَبُ فَضْلَنَا ، فَإِنَّا وُجُوهُ الْعَرَبِ ( نَفِدُ عَلَيْكَ ) ، فَنَسْتَحِي أَنْ تَرَانَا الْعَرَبُ وَهَذِهِ الْأَعْبُدُ ، فَإِذَا نَحْنُ جِئْنَاكَ فَأَقِمْهُمْ عَنَّا ، فَإِذَا ( نَحْنُ ) فَرَغْنَا فَأَقْعِدْهُمْ إِنْ شِئْتَ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ . قَالُوا : فَاكْتُبْ لَنَا عَلَيْكَ ( كِتَابًا ) فَدَعَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّحِيفَةِ ، وَدَعَا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَكْتُبَ ، وَنَحْنُ قُعُودٌ فِي نَاحِيَةٍ إِذْ نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِقَوْلِهِ تَعَالَى : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ إِلَى قَوْلِهِ : مِنَ الظَّالِمِينَ ثُمَّ قَالَ جَلَّ وَعَلَا : وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلامٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ فَرَمَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّحِيفَةِ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ دَعَانَا فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : سَلامٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ فَدَنَوْنَا مِنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَضَعْنَا رُكَبَنَا عَلَى رُكْبَتِهِ فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ مَعَنَا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ قَامَ وَتَرَكَنَا ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا قَالَ : فَجَالَسَ الْأَشْرَافَ ، وَلا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا قَالَ : عُيَيْنَةُ وَالْأَقْرَعُ ، وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا قَالَ : هَلَاكًا . ثُمَّ ضَرَبَ لَهُمْ مَثَلَ رَجُلَيْنِ وَبِمَثَلِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْعُدُ مَعَنَا ، فَإِذَا بَلَغَ السَّاعَةَ الَّتِي يَقُومُ فِيهَا قُمْنَا وَتَرَكْنَاهُ ، وَإِلَّا صَبَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا حَتَّى نَقُومَ .
3603 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، ثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، فَذَكَرَهُ بِتَمَامِهِ .
وَأَخْرَجَهُ ابْنُ مَاجَهْ مِنْ طَرِيقِ عَمْرٍو الْعَنْقَزِيِّ مُخْتَصَرًا .سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 52] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے بیان کیا کہ اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن فزاری رضی اللہ عنہما آئے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو سیدنا بلال، صہیب اور خباب رضی اللہ عنہم اور دیگر کمزور و نادار مسلمانوں کی معیت میں بیٹھا ہوا پایا۔ جب ان سرداروں نے ان صحابہ کو آپ ﷺ کے ارد گرد دیکھا تو انہیں حقیر سمجھا، پھر وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور تنہائی میں عرض کیا: ”ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے ایک مخصوص مجلس مقرر کریں جس کے ذریعے عربوں کو ہماری فضیلت و برتری کا علم ہو، کیونکہ ہم عرب کے معزز سردار ہیں اور مختلف وفود ہمارے پاس آتے ہیں، لہٰذا ہمیں اس بات سے شرم محسوس ہوتی ہے کہ عرب ہمیں ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھیں۔ پس جب ہم آپ کے پاس آئیں تو آپ انہیں اپنے پاس سے اٹھا دیا کریں اور جب ہم فارغ ہو کر چلے جائیں تو پھر اگر آپ چاہیں تو انہیں اپنے پاس بٹھا لیا کریں۔“ نبی کریم ﷺ نے (تالیفِ قلب کی خاطر) فرمایا: ”ٹھیک ہے (میں ایسا کر لوں گا)۔“ انہوں نے کہا: ”تو پھر ہمارے لیے ایک تحریری معاہدہ لکھوا دیجیے“، چنانچہ آپ ﷺ نے ایک کاغذ منگوایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھنے کے لیے طلب فرمایا، ہم ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان لے کر نازل ہوئے: ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ﴾ [سورة الأنعام: 52] سے لے کر ﴿مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ تک۔ پھر اللہ جل جلالہ نے فرمایا: ﴿وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ﴾ [سورة الأنعام: 54]۔ (یہ سنتے ہی) رسول اللہ ﷺ نے وہ کاغذ اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اور ہمیں آواز دی، پس ہم آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ فرما رہے تھے: «سَلَامٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ» ”تم پر سلامتی ہو، تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت لازم کر لی ہے“، چنانچہ ہم آپ ﷺ کے اتنے قریب ہو کر بیٹھ گئے کہ ہمارے گھٹنے آپ کے مبارک گھٹنوں سے مس ہو گئے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ ہی تشریف فرما رہتے تھے، پھر جب آپ ﷺ اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو اٹھ کر ہمیں چھوڑ دیتے (تاکہ ہماری دل شکنی نہ ہو)، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ [سورة الكهف: 28]۔ راوی کہتے ہیں کہ اس سے مراد ان اشرافِ قریش کی مجلس کی خواہش تھی، اور فرمایا: ﴿وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا﴾ [سورة الكهف: 28] یعنی عیینہ اور اقرع، اور ﴿وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا﴾ [سورة الكهف: 28] میں «فُرُطًا» سے مراد ”ہلاکت و بربادی“ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے دو آدمیوں اور دنیاوی زندگی کی مثال بیان فرمائی۔ (سیدنا خباب فرماتے ہیں کہ اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ بیٹھے رہتے تھے اور جب وہ وقت آتا جس میں آپ نے اٹھنا ہوتا تھا تو (آپ ﷺ کی سہولت کی خاطر) ہم خود اٹھ کر چلے جاتے اور آپ کو چھوڑ دیتے، ورنہ آپ ﷺ ہمیشہ صبر و استقامت کے ساتھ تشریف فرما رہتے یہاں تک کہ ہم خود ہی اٹھ جاتے۔
امام ابوبکر نے کہا: ہمیں احمد بن مفضل نے حدیث بیان کی، انہوں نے اسباط بن نصر سے یہ روایت مکمل ذکر کی۔ اور امام ابن ماجہ نے اسے عمرو العنقزی کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے۔