المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَنْعَامِ باب: سورہ انعام۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، ثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِ صَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً تَامَّةَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، فَسَجَدَ ذَاتَ يَوْمٍ فَأَطَالَ السُّجُودَ ، حَتَّى أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ أَنِ اسْكُتُوا فَإِنَّهُ نَزَلَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَطَلْتَ السُّجُودَ حَتَّى أَوْمَأَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ أَنَّهُ نَزَلَ عَلَيْكَ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، وَلَكِنَّهَا كَانَتْ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ ، سَأَلْتُ اللهَ تَعَالَى ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً ، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ عَذَّبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَى عَامَّتِكُمْ عَدُوًّا يَسْتَبِيحُهَا فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِيهَا " قَالَ : قُلْتُ لَهُ أَبُوكَ ، سَمِعْتَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَدَدَ أَصَابِعِهِ هَذِهِ عَشْرًا .
3602 \ 2 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، نَحْوَهُ .سیدنا خالد بن خالد الخزاعی رضی اللہ عنہ (جو اصحابِ شجرہ میں سے تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول مبارک یہ تھا کہ جب لوگ آپ کے گرد موجود ہوتے تو آپ ﷺ مختصر مگر رکوع و سجود کے اعتبار سے نہایت مکمل نماز ادا فرماتے تھے، ایک مرتبہ آپ ﷺ نے نماز میں سجدہ اس قدر طویل فرما دیا کہ ہم ایک دوسرے کو اشارے کرنے لگے کہ خاموش رہو، شاید آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے، پھر جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو کسی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے سجدہ اتنا طویل کر دیا تھا کہ ہمیں گمان ہوا کہ شاید آپ پر وحی اتر رہی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایسا نہیں تھا، بلکہ یہ رغبت اور خوف (یعنی امید و بیم) کی نماز تھی، میں نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں مانگیں تو اس نے مجھے دو عطا فرما دیں اور ایک سے منع کر دیا؛ میں نے اللہ سے یہ دعا کی «أَنْ لَا يُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ عَذَّبَ بِهِ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ» ”کہ وہ تمہیں اس عذاب کے ذریعے جڑ سے ختم نہ کرے جس سے تم سے پہلی امتوں کو ہلاک کیا گیا تھا“ تو اللہ نے میری یہ دعا قبول فرما لی، اور میں نے یہ سوال کیا «أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَى عَامَّتِكُمْ عَدُوًّا يَسْتَبِيحُهَا» ”کہ وہ تمہاری پوری جماعت پر کوئی ایسا بیرونی دشمن مسلط نہ کرے جو تمہاری حرمتوں کو پامال کر دے“ تو اللہ نے یہ بھی عطا فرما دی، اور میں نے یہ التجا کی «أَنْ لَا يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ» ﴿أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ﴾ [سورة الأنعام: 65] ”کہ وہ تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر کے آپس میں نہ الجھائے اور نہ ہی تمہیں ایک دوسرے کی لڑائی کی سختی چکھائے“ تو اللہ نے مجھے اس سے روک دیا (یعنی یہ دعا قبول نہیں فرمائی)۔“ راوی نافع کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے پوچھا: کیا آپ نے اسے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے اپنی ان انگلیوں کے اشارے سے بتایا کہ ہاں، میں نے اسے اللہ کے رسول ﷺ سے دس مرتبہ سنا ہے۔
امام بزار نے بھی اپنی سند میں علی بن منذر کے واسطے سے ابن فضیل سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔