المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَعْرَافِ باب: سورۂ اعراف۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّا سَمِعْنَا اللهَ يَقُولُ : إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ قَالَ : وَمَا نَرَى الْقَوْمَ إِلَّا افْتَرَوْا فِرْيَةً ، مَا أُرَاهَا إِلَّا سَتُصِيبُهُمْ ، ذَكَرَهُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثِهِ .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”ہم نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان سنا ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ﴾ [سورة الأعراف: 152] یعنی ”بلاشبہ جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا، انہیں ان کے رب کی طرف سے غضب اور دنیاوی زندگی میں ذلت و خواری پہنچ کر رہے گی، اور ہم بہتان باندھنے والوں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔“ انہوں نے (مزید) فرمایا: ”اور میں ان لوگوں کے متعلق یہی دیکھتا ہوں کہ انہوں نے بھی ایک بہت بڑا جھوٹ گھڑا ہے، اور میرا یہی گمان ہے کہ یہ (وعید) عنقریب انہیں بھی پہنچ کر رہے گی۔“ راوی نے یہ بات اپنی گفتگو کے دوران بیان فرمائی۔
یہ اثر مسند اسحاق بن راہویہ کی روایت ہے، اس میں جھوٹ گھڑنے والوں اور بدعت ایجاد کرنے والوں کے لیے سخت وعید ہے کہ اللہ کا غضب اور ذلت انہیں دنیا میں بھی پہنچ سکتی ہے۔