المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَنْعَامِ باب: سورہ انعام۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : " لِيَتَّقِ امْرُؤٌ أَنْ لَا يَكُونَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ ، ثُمَّ قَرَأَتْ : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہر انسان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ (اپنے غلط طرزِ عمل کی وجہ سے) رسول اللہ ﷺ کے نقشِ قدم اور آپ کی نسبت سے بالکل ہی محروم نہ ہو جائے“، پھر انہوں نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ﴾ [سورة الأنعام: 159] ”بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور گروہ در گروہ بن گئے، (اے نبی!) آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے“۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام واضح نہیں ہے، تاہم اس کا متن تفرقہ بازی سے بچنے اور اتباعِ سنت کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے۔