المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَنْعَامِ باب: سورہ انعام۔
حدیث نمبر: 3600
حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ حَسَّانَ الْفِهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فِي قَوْلِهِ : وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ قَالَ : مَا مِنْ شَجَرَةٍ فِي بَرٍّ وَلَا بَحْرٍ إِلَّا وَبِهَا مَلَكٌ مُوَكَّلٌ يَكْتُبُ مَا يَسْقُطُ مِنْ وَرَقِهَا .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ﴾ [سورة الأنعام: 59] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”خشکی ہو یا تری، (روئے زمین پر) کوئی بھی ایسا درخت نہیں ہے مگر اس پر ایک فرشتہ مامور ہے جو اس سے گرنے والے ہر ایک پتے کا باقاعدہ اندراج کرتا ہے۔“
اس اثر کو امام ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں اور دیگر محدثین نے اپنی کتب میں حسان فہری کے واسطے سے نقل کیا ہے۔