المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَنْعَامِ باب: سورہ انعام۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُجَمِّعٍ التَّيْمِيِّ ، حَدَّثَهُ عَنْ مَاهَانَ قَالَ : إِنَّ قَوْمًا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّا أَصَبْنَا ذُنُوبًا عِظَامًا ، فَمَا إِخَالُهُ رَدَّ عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا أَدْبَرُوا نَزَلَتْ : وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلامٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ الْآيَةَ ، فَدَعَاهُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاهَا عَلَيْهِمْ .ماہان سے روایت ہے کہ ایک گروہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا: ”بے شک ہم سے بڑے بڑے گناہ سرزد ہو گئے ہیں“، راوی کہتے ہیں کہ میرا نہیں خیال کہ آپ ﷺ نے انہیں (فوری طور پر) کوئی جواب دیا، پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے تو یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی: ﴿وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِنَا فَقُلْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ﴾ [سورة الأنعام: 54] ”اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو (ان سے) کہہ دیجیے کہ تم پر سلامتی ہو، تمہارے رب نے اپنی ذاتِ اقدس پر رحمت کو لازم فرما لیا ہے“، چناچہ نبی کریم ﷺ نے انہیں واپس بلوایا اور ان کے سامنے اس آیتِ کریمہ کی تلاوت فرمائی۔
اسے امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔