المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَنْعَامِ باب: سورہ انعام۔
حدیث نمبر: 3596
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ : نَزَلَتْ سُورَةُ الْأَنْعَامِ ، وَمَعَهَا زَجَلٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ قَدْ نَيَّطُوا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِلَى الْأَرْضِ ، وَهِيَ مَكِّيَّةٌ غَيْرُ آيَتَيْنِ :قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ .ترجمہ
حضرت شہر بن حوشب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”سورہ الانعام جب نازل ہوئی تو اس کے ہمراہ فرشتوں کی ایک ایسی عظیم جماعت تھی جن کی تسبیح و تقدیس کی گونج فضاؤں میں بلند ہو رہی تھی، ان فرشتوں نے آسمانِ دنیا سے لے کر زمین تک کے تمام درمیانی خلا کو پر کر رکھا تھا، اور یہ پوری سورت مکی ہے سوائے ان دو آیتوں کے جن کا آغاز ﴿قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ﴾ [سورة الأنعام: 151] سے ہوتا ہے۔“
اس اثر کو اسحاق بن راہویہ نے جریر، لیث اور شہر بن حوشب کے واسطے سے روایت کیا ہے۔