المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْأَنْعَامِ باب: سورہ انعام۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : مَا تَقُولُونَ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ : إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا وَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ قَالُوا : الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ، ثُمَّ عَمِلُوا بِهَا ، ثُمَّ اسْتَقَامُوا عَلَى أَمْرِهِ ، قَالُوا : وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ، لَمْ يُذْنِبُوا ، قَالَ : لَقَدْ حَمَلْتُمُوهَا عَلَى أَمْرٍ شَدِيدٍ ، الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ ، يَقُولُ : بِشِرْكٍ ، وَالَّذِينَ قَالُوا : رَبُّنَا اللهُ ، ثُمَّ اسْتَقَامُوا عَلَيْهَا ، فَلَمْ يَعْدِلُوا عَنْهَا بِشِرْكٍ وَلَا غَيْرِهِ .سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے اصحاب سے دریافت فرمایا: ”تم ان دو آیاتِ مبارکہ کے متعلق کیا کہتے ہو: ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ [سورة فصلت: 30] اور ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [سورة الأنعام: 82]؟“ صحابہ نے عرض کی: ”﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا، پھر اس اقرار کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا اور اللہ کے حکم پر ڈٹ گئے؛ جبکہ ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کوئی گناہ نہیں کیا۔“ تب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”تم نے ان آیات کو بہت زیادہ سخت اور مشکل مفہوم پر محمول کر لیا ہے، درحقیقت ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کو 'شرک' کے ساتھ آلودہ نہیں کیا، اور ﴿الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی وحدانیت کا اعتراف کیا اور پھر اس پر ایسے ثابت قدم رہے کہ شرک یا کسی بھی دوسری ضلالت کی طرف مائل ہو کر حق سے انحراف نہیں کیا۔“
اس روایت کی تخریج امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں کی ہے، اور اگرچہ اس کی سند میں کلام ہے، تاہم اس کا معنی دیگر صحیح احادیث اور آثار سے مؤید ہے۔