❮
❯
حدیث نمبر: 3593
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَقُولُ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : لَمَّا سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ : يَحْرُمُ كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، قُلْتُ : لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ : وَإِنَّ الْبُرْمَةَ تَكُونُ فِي مَائِهَا الصُّفْرَةُ ، ثُمَّ لَا يُحَرِّمُهَا ذَلِكَ .
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب انہوں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ”ہر کچلی (نوک دار دانت) والے درندے کا گوشت حرام ہے،“ تو انہوں نے (اس کے جواب میں) فرمایا کہ میں تو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ﴾ [سورة الأنعام: 145] ”(اے نبی ﷺ! آپ فرما دیں کہ) جو وحی میری طرف کی گئی ہے، اس میں میں کسی کھانے والے پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں پاتی جسے وہ کھاتا ہو“ (آیت کے اختتام تک) کے علاوہ قرآن میں ایسی کوئی ممانعت نہیں پاتی۔ نیز انہوں نے (خون کی حرمت کے ضمن میں) فرمایا کہ ”بسا اوقات پتھر کی ہانڈی کے پانی میں (گوشت یا ہڈی کے اثر سے) زردی یا سرخی نمایاں ہو جاتی ہے، مگر وہ رنگت اسے حرام نہیں کرتی۔“
مسدد نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3593
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد صحيح »
«أخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 8708، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 20235»