المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمَائِدَةِ باب: سورت المائدہ۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ : كَانُوا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرُوا هَذِهِ الْآيَةَ : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ ... الْحَدِيثَ .
فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَأَكْمَلَ اللهُ تَعَالَى لَنَا الْأَمْرَ ، فَعَرَفْنَا أَنَّ الْأَمْرَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي انْتِقَاصٍ .
قُلْتُ : أَصْلُهُ مُخَرَّجٌ عِنْدَهُمْ مِنْ حَدِيثِ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دُونَ مَا هُنَا .ابو العالیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ لوگ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے کہ انہوں نے اس آیت ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 3] کا تذکرہ کیا، تو ایک یہودی شخص نے کہا... (جیسا کہ) پوری حدیث (میں مذکور ہے)۔
پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اس معاملے کو مکمل فرما دیا، تو ہم سمجھ گئے کہ اس (کمال) کے بعد اب یہ معاملہ (تدریجی) کمی کی طرف جائے گا۔“
میں کہتا ہوں: اس روایت کی اصل کتبِ حدیث میں طارق بن شہاب کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں موجود ہے، البتہ یہ مخصوص الفاظ جو یہاں ہیں وہاں مذکور نہیں ہیں۔