المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمَائِدَةِ باب: سورت المائدہ۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : " إِنْ كَانَ لَتَأْتِي عَلَيَّ السَّنَةُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ فَأَتَهَيَّبُ مِنْهُ ، وَإِنْ كُنَّا لَنَتَمَنَّى الْأَعْرَابَ .
( 147 ) حَدِيثُ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : كَانُوا لا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ .سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بسا اوقات مجھ پر پورا سال گزر جاتا اور میں رسول اللہ ﷺ سے کسی مسئلے کے بارے میں دریافت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، مگر آپ ﷺ کی ہیبت و جلالتِ قدر کی وجہ سے (سوال کرنے سے) رک جاتا تھا، اور ہم (اس انتظار میں) صحرائی بدوؤں کی آمد کی تمنا کیا کرتے تھے (تاکہ وہ آئیں اور بلا جھجھک سوال کریں اور ہم علم حاصل کر سکیں)“۔
(147) حضرت حسن بصری کی سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث جو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ﴾ [سورة المائدة: 79] کی تفسیر میں ہے، کتاب الایمان میں مذکور ہے۔