المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمَائِدَةِ باب: سورت المائدہ۔
حدیث نمبر: 3583
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ : فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً يَتِيهُونَ فِي الأَرْضِ ; قَالَ : مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَنْ يَدْخُلُوا أَبَدًا ، وَيَتِيهُونَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً .ترجمہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً يَتِيهُونَ فِي الْأَرْضِ﴾ [سورة المائدة: 26] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”ان کے لیے اس (سرزمین) میں داخلہ ابدی طور پر ممنوع قرار دے دیا گیا تھا، اور وہ چالیس سال تک زمین میں حیران و پریشان بھٹکتے رہے۔“
[تخريج: یہ اثر صحیح سند کے ساتھ تفسیر ابن ابی حاتم: 6418 اور تفسیر طبری: 11666 میں مروی ہے]۔