المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمَائِدَةِ باب: سورت المائدہ۔
قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، قَالَ : تَاهُوا فِي اثْنَيْ عَشَرَ فَرْسَخًا أَرْبَعِينَ عَامًا ، وَجُعِلَ بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ حَجَرٌ لَهُ مِثْلُ رَأْسِ الثَّوْرِ ، فَإِذَا نَزَلُوا انْفَجَرَ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ، فَإِذَا رَحَلُوا حَمَلُوهُ عَلَى ثَوْرٍ فَاسْتَمْسَكَ .
3582 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا وَرْقَاءُ بِهَذَا إِلَى قَوْلِهِ : " أَنْ يَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ " .
3582 \ 3 - حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ قَالَ : تَاهُوا فِي اثْنَيْ عَشَرَ فَرْسَخًا أَرْبَعِينَ عَامًا ، وَجَعَلَ لَهُمْ حَجَرًا مِثْلَ رَأْسِ الثَّوْرِ ، يُحْمَلُ عَلَى ثَوْرٍ ، فَإِذَا نَزَلُوا مَنْزِلًا وَضَعُوهُ فَضَرَبَهُ مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ، فَإِذَا سَارُوا حَمَلُوهُ عَلَى ثَوْرٍ وَاسْتَمْسَكَ الْمَاءُ .فضل بن عطیہ سے روایت ہے کہ ”بنو اسرائیل چالیس سال تک بارہ فرسخ (تقریباً 36 میل) کے رقبے میں سرگرداں رہے اور ان کے پاس ایک ایسا پتھر رکھا گیا تھا جو بیل کے سر کی مانند تھا، چنانچہ جب وہ کہیں پڑاؤ ڈالتے تو اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑتے اور جب وہ وہاں سے کوچ کرتے تو اسے ایک بیل پر لاد لیتے اور پانی کا بہاؤ رک جاتا تھا۔“
امام احمد بن منیع نے اپنی سند سے ورقاء کے واسطے سے ان کے اس قول ”کہ وہ ان پر داخل ہو جائیں“ تک روایت بیان کی ہے۔
عطیہ عوفی سے روایت ہے کہ ”بنو اسرائیل بارہ فرسخ کے علاقے میں چالیس سال تک بھٹکتے رہے، ان کے لیے بیل کے سر کے مشابہ ایک پتھر مقرر کر دیا گیا تھا جسے بیل پر لاد کر لایا جاتا تھا، پس جب وہ کسی منزل پر قیام کرتے تو اسے زمین پر رکھ دیتے اور سیدنا موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام اس پر ضرب لگاتے تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑتے، پھر جب وہ سفر کا ارادہ کرتے تو اسے دوبارہ بیل پر لاد لیتے اور پانی تھم جاتا تھا۔“