❮
❯
حدیث نمبر: 3579
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا مُبَشِّرٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ تَمَّامِ بْنِ نَجِيحٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ ذُهْلٍ الْإِيَادِيِّ قَالَ : كُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ : وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللهَ يَجِدِ اللهَ غَفُورًا رَحِيمًا ، وَقَدْ كَانَتْ شَقَّتْ عَلَيْهِمُ الْآيَةُ الَّتِي قَبْلَهَا : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُبَشِّرَ أَصْحَابِي . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللهَ غَفَرَ لَهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، ثُمَّ قُلْتُ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، عَلَى رَغْمِ أَنْفِ عُوَيْمِرٍ . " ثُمَّ قَالَ كَعْبُ بْنُ ذُهْلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : رَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَضْرِبُ أَنْفَ نَفْسِهِ بِأُصْبُعِهِ .
ترجمہ

کعب بن ذُہل ایادی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے انہیں اللہ کے نبی ﷺ سے یہ مروی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب عزوجل کی طرف سے ایک پیغام لانے والا میرے پاس آیا اور اس نے یہ وحی پہنچائی: ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللهَ يَجِدِ اللهَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ ”اور جو کوئی برا عمل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا پائے گا۔“ [سورة النساء: 110]۔“ دراصل اس سے پہلے نازل ہونے والی یہ آیت: ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ ”جو بھی برا کام کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔“ [سورة النساء: 123] صحابہ کرام پر نہایت شاق اور گراں گزری تھی، اس لیے میں نے چاہا کہ اپنے صحابہ کو (اس نئی آیت کے ذریعے) خوشخبری سنا دوں۔ (سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور اگرچہ اس نے چوری کی ہو، پھر وہ اللہ سے مغفرت طلب کرے تو کیا اللہ اسے معاف کر دے گا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے دوبارہ عرض کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، عویمر (ابودرداء) کی ناک خاک آلود ہونے کے باوجود (یعنی ابودرداء کے گمان کے برعکس اللہ اسے معاف فرما دے گا)۔“ کعب بن ذُہل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ (اس بات کی تاکید کے لیے) اپنی انگلی سے اپنی ناک پر ضرب لگا رہے تھے۔
اس حدیث کی سند میں تمام بن نجیح راوی ضعیف ہے، البتہ اس میں مذکور مغفرت کا مضمون دیگر صحیح احادیث و قرآنی آیات سے ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3579
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا إسناد تالف فيه علل:، 1 - محمد بن إبراهيم متهم إلَّا أنه لم يتفرد به.، 2 - تمام بن نجيح ضعيف.، 3 - كعب بن ذهل مجهول. »
«أخرجه صحيح ابن حبان برقم: 3326، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 10899، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 20826، وأخرجه مسند أحمد برقم: 28137، وأخرجه مسند البزار برقم: 4122، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 3995، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 2932»