المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْمَائِدَةِ باب: سورت المائدہ۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَدُّوا لِلْحُلَفَاءِ عُقُودَهُمُ الَّذِي عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ " ، قَالُوا : وَمَا عَقْدُهُمْ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْعَقْلُ عَنْهُمْ ، وَالنَّصْرُ لَهُمْ .سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اپنے ان حلیفوں کے وہ تمام تر معاہدے اور پاسداریاں نبھاؤ جن کے بارے میں ﴿عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 33] تمہارے دائیں ہاتھوں نے (قسموں کے ذریعے) پختہ عہد کر رکھا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ان کے متعلق اس عہد کی نوعیت اور حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس سے مراد «الْعَقْلُ عَنْهُمْ» ”ان کی جانب سے دیت (خون بہا) کی ادائیگی میں شرکت کرنا“ اور «النَّصْرُ لَهُمْ» ”ان کی مدد و حمایت کرنا“ ہے۔“
اس روایت کی سند میں ابن لہیعہ راوی اپنے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے کلام زدہ ہے، تاہم حدیث کا یہ مفہوم کہ حلیفوں کے حقوق ادا کیے جائیں، دیگر صحیح احادیث اور شواہد سے ثابت ہے۔