المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النِّسَاءِ باب: سورۂ نساء۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : خَرَجَ ضَمْرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا ; فَقَالَ لِأَهْلِهِ : " احْمِلُونِي ، فَأَخْرِجُونِي مِنْ أَرْضِ الْمُشْرِكِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَنَزَلَ الْوَحْيُ : وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللهِ الْآيَةَ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ضمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ ہجرت کی نیت سے اپنے گھر سے روانہ ہوئے، تو انہوں نے اپنے اہل خانہ سے کہا: ”تم لوگ مجھے اٹھا لو اور مشرکین کی اس سرزمین سے نکال کر رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں لے چلو۔“ تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی نازل ہوئی: ﴿وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ﴾ [سورة النساء: 100] یعنی اور جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی خاطر اپنے گھر سے نکلے، پھر (راستے میں ہی) اسے موت آ پکڑے تو یقیناً اس کا اجر اللہ کے ہاں ثابت ہو گیا۔
یہ روایت اسبابِ نزول کے بیان میں نہایت اہمیت کی حامل ہے، جسے امام ابن ابی حاتم اور دیگر محدثین نے مختلف اسانید سے روایت کیا ہے۔