المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النِّسَاءِ باب: سورۂ نساء۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَبْعَثُ اللهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَوْمًا تَأَجَّجُ أَفْوَاهُهُمْ نَارًا " . فَقِيلَ : مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ فَقَالَ : " أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ : إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا .سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایسے لوگوں کو (قبروں سے) اٹھائے گا جن کے منہ سے آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے۔“ عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے (جواباً) ارشاد فرمایا: ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا﴾ [سورة النساء: 10] ”بے شک وہ لوگ جو یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں (وہ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھرتے ہیں)۔“ “
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں زیاد بن منذر نامی راوی کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے، تاہم اس کا معنی و مفہوم قرآنِ مجید کی نص سے ثابت اور درست ہے۔