المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النِّسَاءِ باب: سورۂ نساء۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنْزِلِهِ ، فَنَظَرَ فَإِذَا حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَرَأَهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَقَّنَهَا حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَنَظَرَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَإِذَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهَا فَلُقِّنَهَا ، فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ فِي الْكَلَالَةِ فَلَقِيَ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : وَاللهِ إِنِّي لَأَحْمَقُ إِنْ ظَنَنْتُ أَنَّ إِمَارَتَكَ تُحَمِّلُنِي غُلًّا وَتَقُولُ : لَقِّنِّيهَا ، هُوَ مَا قُلْتُ لَكَ . قَالَ : يَرْحَمُكَ اللهُ لَيْسَ هَذَا أَرَدْتُ . قَالَ : نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقَّنَنِيهَا فَلَقَّنْتُكَ كَمَا لَقَّنَنِيهَا ، فَوَاللهِ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا أَبَدًا " .سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب یہ آیت ﴿يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ﴾ [سورة النساء: 176] نازل ہوئی تو اس وقت نبی کریم ﷺ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو وہاں حذیفہ (رضی اللہ عنہ) موجود تھے، چنانچہ نبی کریم ﷺ نے ان کے سامنے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اسے اچھی طرح ذہن نشین کرا دیا۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے، تو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ آیت پڑھ کر سنائی اور انہیں بھی یاد کرا دی۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منصبِ خلافت پر فائز ہوئے اور انہوں نے کلالہ کے متعلق کوئی فیصلہ کرنے کا ارادہ کیا تو وہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا، جس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں تو بہت ہی نادان ہوں گا اگر میں یہ خیال کروں کہ آپ کی حکمرانی مجھ پر کوئی دباؤ یا بیڑی ڈال دے گی اور اب آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ 'مجھے یہ آیت دوبارہ سکھاؤ'، حالانکہ حقیقت وہی ہے جو میں نے آپ کو پہلے بتائی تھی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «يَرْحَمُكَ اللهُ» ”اللہ تم پر رحم فرمائے“، میرا یہ مقصد نہیں تھا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی تھی اور آپ ﷺ نے مجھے اسے یاد کرایا تھا، پھر میں نے بھی آپ کو ویسے ہی یاد کروا دیا تھا جیسے مجھے سکھائی گئی تھی، پس اللہ کی قسم! میں اس تعلیم پر کبھی کسی بھی چیز کا اضافہ نہیں کروں گا۔“
اس اثر کو امام ابن ابی عمر العدنی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔