المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النِّسَاءِ باب: سورۂ نساء۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللهِ تَعَالَى يُكَفِّرُ الذُّنُوبَ كُلَّهَا غَيْرَ الْأَمَانَةِ ، يُؤْتَى بِالشَّهِيدِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُقَالُ : أَدِّ أَمَانَتَكَ . فَيَقُولُ : مِنْ أَيْنَ أُؤَدِّيهَا فَقَدْ ذَهَبَتِ الدُّنْيَا ؟ قَالَ : فَقَالَ : اذْهَبُوا بِهِ إِلَى الْهَاوِيَةِ ، حَتَّى إِذَا انْتُهِيَ بِهِ إِلَى قَرَارِ الْهَاوِيَةِ مُثِّلَتْ لَهُ أَمَانَتُهُ كَهَيْئَةِ يَوْمَ ذَهَبَتْ ، فَيَحْمِلُهَا فَيَضَعُهَا عَلَى عَاتِقِهِ ، فَيَصْعَدُ فِي النَّارِ حَتَّى إِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدْ خَرَجَ مِنْهَا هَوَتْ ، وَهَوَى فِي إِثْرِهَا أَبَدَ الْآبِدِينَ ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ : إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد و قتال (شہادت) امانت کے سوا تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے، اللہ عزوجل کی راہ میں شہید ہونے والے کو (بروزِ قیامت) لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا: اپنی امانت ادا کرو۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں اسے کیسے ادا کروں جبکہ دنیا تو ختم ہو چکی ہے؟ تب ارشاد ہوگا: اسے ہاویہ (جہنم) کی طرف لے جاؤ، پھر جب اسے ہاویہ کی عمیق گہرائی میں پہنچا دیا جائے گا تو اس کی وہ امانت بالکل اسی حالت میں اس کے سامنے پیش کی جائے گی جیسی وہ (دنیا میں) ضائع ہونے کے دن تھی، وہ اسے اٹھا کر اپنے کندھے پر لادے گا اور آگ میں اوپر کی جانب چڑھے گا، یہاں تک کہ جب اسے گمان ہوگا کہ وہ اب آگ سے باہر نکلنے ہی والا ہے، تو وہ امانت دوبارہ نیچے گر پڑے گی اور وہ شخص بھی ابدالآباد تک اس کے پیچھے پیچھے نیچے گرتا رہے گا“۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾ [سورة النساء: 58]۔
اس روایت کی سند جید ہے اور اسے امام بیہقی نے 'شعب الایمان' اور امام طبرانی نے 'المعجم الکبیر' میں روایت کیا ہے۔