المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النِّسَاءِ باب: سورۂ نساء۔
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ : أَظُنُّ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ الزُّبَيْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اخْتَصَمَ هُوَ وَرَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا قَضَى لَهُ لِأَنَّهُ ابْنُ عَمَّتِهِ ، وَهَمَزَهُ بِفِيهِ ، فَقَالَ يَهُودِيٌّ : انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَلْمِزُ نَبِيَّهُ ، نَحْنُ أَطْوَعُ مِنْهُمْ ، أَمَرَنَا نَبِيُّنَا لِنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا فَقَتَلْنَا أَنْفُسَنَا .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ایک صاحب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور ایک شخص کا آپس میں جھگڑا ہو گیا تو وہ اپنا مقدمہ نبی کریم ﷺ کی عدالت میں لے گئے، آپ ﷺ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔ اس پر اس شخص نے (گستاخی کرتے ہوئے) کہا: ”آپ ﷺ نے ان کے حق میں فیصلہ محض اس لیے دیا ہے کہ وہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں“، اور اس نے اپنی زبان سے طعنہ زنی کی۔ یہ دیکھ کر ایک یہودی بول اٹھا: ”اس شخص کو دیکھو! یہ اپنے ہی نبی پر عیب جوئی کر رہا ہے، حالانکہ ہم ان لوگوں سے کہیں زیادہ اپنے نبی کے فرمانبردار ہیں؛ ہمیں ہمارے نبی نے حکم دیا کہ اپنی جانیں قتل کرو تو ہم نے (فرمانِ الٰہی ﴿فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 54] کی تعمیل میں) اپنی جانیں قتل کر دیں“۔
تخریج: یہ روایت مسند اسحاق بن راہویہ (حدیث: 1843) میں موجود ہے اور اس قصے کی اصل صحیح بخاری (2359) اور صحیح مسلم (2357) میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، تاہم یہودی والا یہ تبصرہ ابن ابی حاتم اور دیگر ائمہ نے بھی اپنی تفاسیر میں نقل کیا ہے۔