المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النِّسَاءِ باب: سورۂ نساء۔
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، نَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ ، رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : إِنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَاصَمَ رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ; فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّمَا قَضَى لَهُ لِأَنَّهُ ابْنُ عَمَّتِهِ ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ الْآيَةَ .سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا ایک شخص کے ساتھ کسی معاملے میں جھگڑا ہو گیا تو وہ اپنا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی عدالت میں لے کر آئے؛ (آپ ﷺ کے فیصلے پر) اس شخص نے (اعتراض کرتے ہوئے) کہا: ”آپ ﷺ نے ان کے حق میں فیصلہ محض اس لیے فرمایا ہے کیونکہ وہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں“، اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ [سورة النساء: 65] ”پس (اے نبی!) آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک (حقیقی) مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی تنازعات میں آپ کو حاکم و منصف تسلیم نہ کر لیں“۔
اس روایت کو امام حمیدی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس واقعے کی اصل صحیح بخاری (4585) میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی روایت سے مروی ہے۔