❮
❯
حدیث نمبر: 3571
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا فِيهِ : ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَسَأَلَهُ يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَصَّالَحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا . قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " عَنْ مِثْلِ هَذَا فَاسْأَلُوا ، هُوَ الرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ الْمَرْأَتَانِ فَتَعْجِزُ إِحْدَاهُمَا ، أَوْ تَكُونُ ذَمِيمَةً ; فَيُصَالِحُهَا عَلَى أَنْ يَأْتِيَهَا كُلَّ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا مَرَّةً " .
ترجمہ

خالد بن عرعرہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے، (راوی نے ایک طویل حدیث بیان کی جس میں ہے کہ) پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَصَّالَحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا﴾ [سورة النساء: 128] کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایسے ہی علمی مسائل کے بارے میں (مجھ سے) سوال کیا کرو؛ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی دو بیویاں ہوں اور ان میں سے ایک (بڑھاپے یا کسی عذر کی وجہ سے حقوقِ زوجیت کی ادائیگی سے) عاجز ہو جائے یا وہ (شکل و صورت میں) ناپسندیدہ ہو، تو وہ عورت اپنے شوہر سے اس بات پر مصالحت کر لے کہ وہ (باری کی تقسیم میں) ہر دو یا تین راتوں کے بعد ایک مرتبہ اس کے پاس آیا کرے۔“
اس روایت کو امام بیہقی نے السنن الکبریٰ میں روایت کیا ہے اور اس کی سند میں موجود راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3571
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد الأثر حسن. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 438، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 1690، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 14854، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3556 / 1، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 8875، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 14348، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6941»