المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النِّسَاءِ باب: سورۂ نساء۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ وَهُوَ ابْنُ عَطِيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي لَأَعْرِفُ أَشَدَّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللهِ تَعَالَى . فَأَهْوَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ ، وَقَالَ : مَا لَكَ نَقَّبْتَ عَنْهَا حَتَّى عَلِمْتَهَا ، فَانْصَرَفَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : الْآيَةُ الَّتِي ذَكَرْتَ أَمْسِ . قَالَ : وَهَلْ تَرَكْتَنِي أُخْبِرُكَ عَنْهَا ؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا نِمْتُ الْبَارِحَةَ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ الْآيَةَ ، مَا مِنَّا أَحَدٌ يَعْمَلُ سُوءً إِلَّا جُزِيَ بِهِ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّا حِينَ نَزَلَتْ مَا نَفَعَنَا طَعَامٌ وَلَا شَرَابٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بَعْدَ ذَلِكَ وَرَخَّصَ قَالَ : وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللهَ يَجِدِ اللهَ غَفُورًا رَحِيمًا .محمد بن منتشر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ "میں اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآن مجید) میں موجود سب سے سخت اور مشکل ترین آیت کو جانتا ہوں۔" یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف لپکے اور اسے اپنے درے سے مارا اور فرمایا: "تجھے کیا ہوا ہے؟ کیا تو نے اس کی اتنی کرید کی کہ اسے جان لیا؟" پھر وہ شخص چلا گیا، یہاں تک کہ جب اگلا دن ہوا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا: "وہ آیت کون سی ہے جس کا تم نے کل ذکر کیا تھا؟" اس نے عرض کیا: "کیا آپ نے مجھے موقع دیا تھا کہ میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا؟" تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: "میں اس فکر کی وجہ سے گزشتہ پوری رات سو نہیں سکا"۔ اس شخص نے عرض کیا: "اے امیر المؤمنین! اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] "جو بھی کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا"۔ (اس نے وضاحت کی کہ) ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو کوئی برا کام کرے اور اسے اس کا بدلہ نہ دیا جائے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: "بیشک جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو (خوفِ الہی کی وجہ سے) ہمیں نہ کھانے نے کوئی نفع دیا اور نہ پینے نے، یہاں تک کہ اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے (دوسری آیت) نازل فرما کر رخصت و آسانی عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا: ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللهَ يَجِدِ اللهَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [سورة النساء: 110] "اور جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے بخشش طلب کرے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا پائے گا"۔
اس روایت کی سند جید ہے اور اسے امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔