❮
❯
حدیث نمبر: 3568
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : خَرَجَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي سَرِيَّةٍ ، فَمَرُّوا بِقَوْمٍ مُشْرِكِينَ ، فَفَرُّوا وَأَقَامَ رَجُلٌ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ، فَقَتَلَهُ الْمِقْدَادُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقِيلَ لَهُ : " أَقَتَلْتَهُ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ؟ " فَقَالَ : وَدَّ لَوْ أَنَّهُ فَرَّ بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ . فَقَالُوا : هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلُوهُ ، فَأَتَوْهُ فَذَكَرُوا لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقَتَلْتَهُ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ وَدَّ لَوْ أَنَّهُ فَرَّ بِمَالِهِ وَأَهْلِهِ قَالَ : فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ فَتَبَيَّنُوا إِلَى قَوْلِهِ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ
يَعْنِي : تُخْفُونَ إِيمَانَكُمْ ، وَأَنْتُمْ مَعَ الْمُشْرِكِينَ فَمَنَّ اللهُ تَعَالَى عَلَيْكُمْ وَأَظْهَرَ الْإِسْلَامَ فَتَبَيَّنُوا .
ترجمہ

سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ ایک لشکری مہم میں روانہ ہوئے، ان کا گزر مشرکین کی ایک قوم پر ہوا تو وہ سب بھاگ گئے، لیکن ایک شخص اپنے اہل و عیال اور مال کے پاس رکا رہا اور پکار اٹھا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“، مگر سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا۔ ان سے کہا گیا: "کیا آپ نے اسے اس حال میں قتل کر دیا کہ وہ اللہ کی توحید کی گواہی دے رہا تھا؟" انہوں نے جواب دیا: "وہ تو یہی چاہتا تھا کہ اپنے اہل و عیال اور مال لے کر بھاگ نکلے"۔ لوگوں نے کہا: "یہ اللہ کے رسول ﷺ موجود ہیں، آپ ان سے پوچھ لیں"، چنانچہ وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: "کیا تم نے اسے اس حال میں قتل کر دیا کہ وہ توحید کی گواہی دے رہا تھا؟" انہوں نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول! وہ تو اپنے مال اور اہل و عیال سمیت فرار ہونا چاہتا تھا"۔ راوی کہتے ہیں: تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا﴾ سے لے کر اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ﴾ [سورة النساء: 94] تک۔
یعنی: تم بھی (مکہ میں) پہلے اسی طرح مشرکین کے درمیان رہتے ہوئے اپنا ایمان چھپایا کرتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا اور اسلام کو غلبہ عطا کیا، لہذا تم خوب تحقیق و تفتیش کر لیا کرو۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3568
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :هذا مرسل صحيح الإِسناد. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 8، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 12379، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 5666»