المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ النِّسَاءِ باب: سورۂ نساء۔
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ عَنْ طَيْسَلَةَ بْنِ مَيَّاسٍ الْهُذَلِيِّ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّجَدَاتِ فَأَصَبْتُ ذُنُوبًا لَا أُرَاهَا إِلَّا مِنَ الْكَبَائِرِ ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ : هِيَ ( تِسْعٌ ) ، وَعَدَّهُنَّ : الْإِشْرَاكُ بِاللهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقِّهَا ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَةِ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَإِلْحَادٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَالَّتِي ( تَسْتَسْحِرُ ) ، وَبُكَاءُ الْوَالِدَيْنِ ( بِالْعُقُوقِ ) . فَلَمَّا رَأَى ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ( فَرَقِي ) قَالَ : أَتَخَافُ أَنْ تَدْخُلَ النَّارَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : أَوَتُحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّةَ ، فَقُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : حَيٌّ وَالِدَاكَ ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَطیصلہ بن میاس الہذلی سے روایت ہے کہ میں نجدات (خوارج کے ایک فرقے) کے ساتھ تھا، پس مجھ سے کچھ ایسے گناہ سرزد ہو گئے جنہیں میں کبیرہ گناہوں کے سوا کچھ نہ سمجھتا تھا، چنانچہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا: ”وہ نو ہیں“، اور انہیں شمار کرتے ہوئے بتایا: ”اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، میدانِ جنگ میں دشمن کے سامنے سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، سود کھانا، یتیم کا مال ہضم کرنا، مسجد حرام میں الحاد (یعنی حدودِ حرم کی بے حرمتی یا کجروی) کرنا، جادو کرنا، اور نافرمانی کے ذریعے والدین کو رلانا۔“ جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے میری گھبراہٹ اور بے چینی دیکھی تو دریافت فرمایا: ”کیا تم دوزخ میں جانے سے ڈرتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا تم جنت میں داخل ہونا چاہتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ انہوں نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟“ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔
اس روایت کو امام بخاری نے الادب المفرد (8) میں اور امام الحاکم نے المستدرک میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔