المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ آلِ عِمْرَانَ باب: سورہ آلِ عمران۔
حدیث نمبر: 3558
( وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ) : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، ثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ الدُّنْيَا حَتَّى نَزَلَ : مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الآخِرَةَ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میرا یہ گمان تک نہیں تھا کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام میں سے کوئی ایسا بھی ہو سکتا ہے جو دنیا کا ارادہ اور اس کی طلب رکھتا ہو، یہاں تک کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ فرمانِ عالی شان نازل ہوا: ﴿مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ﴾ [سورة آل عمران: 152] ”تم میں سے کچھ وہ ہیں جو دنیا کے طالب ہیں اور تم میں سے کچھ وہ ہیں جو آخرت کے طلب گار ہیں۔““
یہ روایت امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی سند کے ساتھ بیان کی ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔