المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ آلِ عِمْرَانَ باب: سورہ آلِ عمران۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ هُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنْ حُجَيْرِ بْنِ بَيَانٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ ذِي رَحِمٍ يَأْتِي رَحِمَهُ ، فَيَسْأَلُهُ مِنْ فَضْلِ مَا أَعْطَاهُ اللهُ تَعَالَى إِيَّاهُ ، فَيَبْخَلُ عَلَيْهِ إِلَّا أُخْرِجَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعٌ يَتَلَمَّظُ حَتَّى يُطَوِّقَهُ ، ثُمَّ قَرَأَ : وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ " . الْآيَةَ .سیدنا حجیر بن بیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کوئی بھی ایسا ذی رحم (رشتہ دار) نہیں ہے جو اپنے کسی (مالدار) رشتہ دار کے پاس جائے اور اس سے اس زائد مال و دولت میں سے کچھ مانگے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرما رکھا ہے، لیکن وہ شخص (مال موجود ہونے کے باوجود) اس کے ساتھ بخل سے کام لے، تو قیامت کے دن اس کے لیے ایک نہایت زہریلا اور غضبناک سانپ نکالا جائے گا جو اپنا منہ کھولے زبان لپکاتا ہوگا، یہاں تک کہ وہ اسے اپنے حصار میں لے کر اس کے گلے کا طوق بن جائے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے اس آیتِ مبارکہ کی تلاوت فرمائی: ﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة آل عمران: 180]۔
تخریج: یہ حدیث مسند احمد (15830) اور المعجم الکبیر للطبرانی (3559) میں موجود ہے، علامہ ہیثمی اور دیگر محققین نے اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔