المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ باب: سورہ بقرہ کی فضیلت و برتری کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَا أَنَا أُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ رَأَيْتُ مِثْلَ الْقَنَادِيلِ نُورًا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ ، فَلَمَّا أَنْ رَأَيْتُ ذَلِكَ وَقَعْتُ سَاجِدًا ، ( فَذَكَرْتُ ) ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَّا مَضَيْتَ يَا أَبَا عَتِيكٍ ؟ فَقَالَ : مَا اسْتَطَعْتُ إِذْ رَأَيْتُ أَنْ وَقَعْتُ سَاجِدًا . فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ مَضَيْتَ لَرَأَيْتَ الْعَجَائِبَ ، تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِلُ لِلْقُرْآنِ .سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ایک مرتبہ میں رات کے وقت نماز پڑھ رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے اترتے ہوئے چراغوں کی مانند کچھ انوار دیکھے، پس جب میں نے یہ منظر دیکھا تو میں (شدتِ ہیبت سے) سجدے میں گر گیا، پھر میں نے اس بات کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ابو عتیک! تم نے (اپنی تلاوت) کیوں نہ جاری رکھی؟“ انہوں نے عرض کی: (اے اللہ کے رسول!) جب میں نے وہ منظر دیکھا تو مجھ میں سکت نہ رہی اور میں سجدے میں گر پڑا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم (اپنی تلاوت) جاری رکھتے تو تم یقیناً بڑے عجائبات کا مشاہدہ کرتے، وہ تو فرشتے تھے جو قرآن (کی تلاوت سننے) کے لیے اتر رہے تھے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔