المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ ( سُرَيْجٍ ) ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَثْفَرَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : أَثْفَرَ فُلَانٌ امْرَأَتَهُ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایک شخص نے اپنی زوجہ کے ساتھ پشت کی جانب سے (مقامِ حرث یعنی جائے ولادت میں) اختلاط کیا، تو لوگوں میں یہ چرچا ہونے لگا کہ ”فلاں شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ پیچھے کی جانب سے یہ فعل کیا ہے“؛ تب اللہ عزوجل نے یہ آیتِ مبارکہ نازل فرمائی: ﴿نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ﴾ [سورة البقرة: 223] یعنی ”تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیتی کی مانند ہیں، پس تم اپنی کھیتی میں جس رخ سے چاہو آؤ (بشرطیکہ وہ مقامِ پیدائش ہی ہو)۔“
اس حدیث کی سند میں ہشام بن سعد صدوق ہیں جن کے حافظے میں کچھ کلام ہے، تاہم اس کے شواہد صحیحین (بخاری و مسلم) میں موجود ہیں جو اس کے اصل معنیٰ کی تقویت کرتے ہیں۔