المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
حدیث نمبر: 3544
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، ثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً قَالَ : عَلَى الْإِسْلَامِ كُلُّهُمْ . وَقَالَ الْكَلْبِيُّ : عَلَى الْكُفْرِ كُلُّهُمْ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً﴾ [سورة البقرة: 213] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: «عَلَى الْإِسْلَامِ كُلُّهُمْ» ”وہ سب کے سب اسلام (یعنی توحید و ایمان) پر قائم تھے۔“ جبکہ کلبی کا قول ہے: «عَلَى الْكُفْرِ كُلُّهُمْ» ”وہ سب کے سب کفر پر (اکٹھے) تھے۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے اور اسے امام حاکم نے المستدرک علی الصحیحین (3544) میں روایت کیا ہے، جس کی تائید دیگر معتبر تفسیری روایات سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت آدم اور حضرت نوح علیہما السلام کے درمیان دس صدیوں تک لوگ توحید پر قائم تھے۔