المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
حدیث نمبر: 3543
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ ، ثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ زَمْعَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : إِلا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلائِكَةُ قَالَ : ظُلَلٌ مِنَ السَّحَابِ ، قَدْ قُطِّعْنَ طَاقَاتٍ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةِ﴾ [سورة البقرة: 210] کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا: ”’ظُلَلٌ‘ سے مراد بادلوں کے وہ سائبان ہیں جنہیں مختلف تہوں، ٹکڑوں اور پرتوں کی صورت میں جدا جدا کر دیا گیا ہو۔“
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہے، تاہم دیگر طرق سے اس کے شواہد موجود ہیں۔