المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ : سَمِعْتُ خُصَيْفًا يُحَدِّثُ عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : فَلا رَفَثَ قَالَ : الرَّفَثُ الْجِمَاعُ ، وَلا فُسُوقَ قَالَ : الْفُسُوقُ الْمَعَاصِي ، وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ قَالَ : الْجِدَالُ الْمِرَاءُ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾ [سورة البقرة: 197] کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ”لفظ «الرَّفَثُ» سے مراد جماع یعنی اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا ہے، «الْفُسُوقُ» سے مراد اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور ہر قسم کے گناہ کے کام ہیں، اور «الْجِدَالُ» سے مراد کسی سے بحث و تکرار اور آپس میں لڑائی جھگڑا کرنا ہے۔“
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں اگرچہ خصیف بن عبدالرحمن کے حافظے پر کلام ہے، تاہم یہ قول دیگر صحیح اور معتبر شواہد و آثار کی روشنی میں مستند ہے۔