المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَنَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ قَالَا : إِنَّ عَمْرَو بْنَ رَافِعٍ مَوْلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ فِي عَهْدِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ قَالَ : فَاسْتَكْتَبَتْنِي حَفْصَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مُصْحَفًا ، وَقَالَتْ : إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَلَا تَكْتُبْهَا حَتَّى تَأْتِيَنِي بِهَا فَأُمْلِهَا عَلَيْكَ كَمَا حَفِظْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا جِئْتُهَا بِالْوَرَقَةِ الَّتِي أَكْتُبُهَا فَقَالَتْ : اكْتُبْ : ( حَافَظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلهِ قَانِتِينَ )
( - ) وَحَدِيثُ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَلا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللهِ هُزُوًا تَقَدَّمَ فِي إِمْضَاءِ الطَّلَاقِ مِنْ كِتَابِ النِّكَاحِ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمرو بن رافع سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے دورِ مبارک میں قرآنِ کریم کے نسخے (مصاحف) لکھا کرتے تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ایک مصحف لکھوایا اور مجھ سے فرمایا: ”جب تم سورہ بقرہ کی اس آیت پر پہنچو تو اسے خود سے نہ لکھنا یہاں تک کہ تم میرے پاس آ جاؤ تاکہ میں تمہیں وہ لفظ بلفظ اسی طرح املا کراؤں (لکھواؤں) جیسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر یاد کی ہے۔“ عمرو بن رافع کہتے ہیں کہ پھر جب میں اس مقام پر پہنچا تو وہ کاغذ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا جس پر میں لکھائی کر رہا تھا، تو انہوں نے فرمایا کہ اس طرح لکھو: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] یعنی: ”تم تمام نمازوں کی پابندی کرو اور بالخصوص درمیانی نماز اور نمازِ عصر کی، اور اللہ کے حضور کمالِ فرماں برداری سے کھڑے رہا کرو“۔
اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا﴾ [سورة البقرة: 231] یعنی: ”اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ“ کے متعلق سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث اس سے قبل کتاب النکاح میں طلاق کے نفاذ کے باب میں گزر چکی ہے۔