المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
حدیث نمبر: 3538
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : وَسَأَلْتُهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هِيَ الْعَصْرُ الَّتِي فُرِّطَ فِيهَا .ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے ﴿الصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ﴾ [سورة البقرة: 238] یعنی درمیانی نماز کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ عصر کی نماز ہے جس میں (جنگِ خندق کے موقع پر) کوتاہی ہو گئی تھی۔“
اسے امام مسدد نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں حارث بن عبداللہ الاعور کی وجہ سے کلام ہے، لیکن عصر کی نماز کا صلاۃِ وسطیٰ ہونا صحیح بخاری و مسلم کی دیگر مستند احادیث سے ثابت ہے۔