المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
حدیث نمبر: 3524
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ الْأَخْنَسِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، ثَنَا الْكَلْبِيُّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَقَالَ : " الْإِعْصَارُ : الرِّيحُ الشَّدِيدُ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ﴾ [سورة البقرة: 266] کی تفسیر کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: ”لفظ «الإعصار» سے مراد ایسی شدید اور تند و تیز آندھی یا بگولہ ہے جو اپنی قوت و رفتار میں نہایت سخت ہو“۔
اس روایت کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں موجود راوی محمد بن السائب الکلبی کے کذاب اور متروک ہونے کی وجہ سے یہ اثر سنداً سخت ضعیف اور ناقابلِ احتجاج ہے۔