المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
حدیث نمبر: 3523
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَعَنَ اللهُ سُهَيْلًا كَانَ عَشَّارًا بِالْيَمَنِ فَمُسِخَ ، وَلَعَنَ اللهُ الزُّهْرَةَ فَإِنَّهَا فَتَنَتِ الْمَلَكَيْنِ " .ترجمہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ سہیل (نامی ستارے) پر لعنت فرمائے، وہ یمن میں ایک (ظالم) ٹیکس وصول کرنے والا (عشار) تھا جسے (اس کے گناہ کی پاداش میں) مسخ کر دیا گیا، اور اللہ تعالیٰ زہرہ (ستارے) پر بھی لعنت فرمائے کیونکہ اسی نے ان دو فرشتوں کو فتنے اور آزمائش میں مبتلا کیا تھا۔"
اس روایت کی سند میں جابر بن یزید الجعفی موجود ہے جو کہ کذاب اور متروک راوی ہے، اس لیے ائمہ محدثین کے نزدیک یہ روایت موضوع (من گھڑت) یا انتہائی درجہ کی ضعیف اور منکر ہے، نیز اس کا متن بھی عقل و نقل کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔