المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب التفسير— تفسیرِ قرآن کا بیان۔
سُورَةُ الْبَقَرَةِ باب: سورہ البقرہ۔
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُخْبِرُ الْقَوْمَ إِنَّ هَذِهِ الزُّهَرَةَ تُسَمِّيهَا الْعَرَبُ الزُّهَرَةَ وَتُسَمِّيهَا الْعَجَمُ أَنَاهِيدَ ، فَكَانَ الْمَلَكَانِ يَحْكُمَانِ بَيْنَ النَّاسِ ، فَأَتَتْهُمَا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَنْ غَيْرِ عِلْمِ صَاحِبِهِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : يَا أَخِي إِنَّ فِي نَفْسِي بَعْضَ الْأَمْرِ أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَهُ لَكَ ؟ قَالَ : اذْكُرْهُ يَا أَخِي ، لَعَلَّ الَّذِي فِي نَفَسِي مِثْلُ الَّذِي فِي نَفْسِكَ ، فَاتَّفَقَا عَلَى أَمْرٍ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَتْ لَهُمَا : لَا ، حَتَّى تُخْبِرَانِي بِمَا تَصْعَدَانِ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَمَا تَهْبِطَانِ بِهِ إِلَى الْأَرْضِ . قَالَا : بِاسْمِ اللهِ الْأَعْظَمِ نَهْبِطُ ، وَبِهِ نَصْعَدُ ، فَقَالَتْ : مَا أَنَا بِمُوَاتِيَتِكُمَا الَّذِي تُرِيدَانِ حَتَّى تُعَلِّمَانِيهِ . فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : عَلِّمْهَا إِيَّاهُ . قَالَ : كَيْفَ لَنَا بِشِدَّةِ عَذَابِ اللهِ ؟ فَقَالَ الْآخَرُ : إِنَّا نَرْجُو سَعَةَ رَحْمَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَعَلَّمَاهَا إِيَّاهُ فَتَكَلَّمَتْ بِهِ فَطَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ ، فَفَزِعَ مَلَكٌ لِصُعُودِهَا ، فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ بَعْدُ ، وَمَسَخَهَا اللهُ تَعَالَى فَكَانَتْ كَوْكَبًاعمیر بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو یہ خبر دیتے ہوئے سنا کہ ”بے شک یہ ستارہ جسے عرب ’زہرہ‘ کہتے ہیں اور اہل عجم اسے ’آنا ہید‘ پکارتے ہیں، (اس کے متعلق واقعہ یہ ہے کہ) دو فرشتے لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے، پس وہ عورت ان دونوں میں سے ہر ایک کے پاس (کسی ضرورت کے لیے) آئی جبکہ دوسرے کو اس کا علم نہ تھا۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: اے میرے بھائی! میرے جی میں ایک بات ہے، میں چاہتا ہوں کہ اسے تمہارے سامنے ذکر کروں؟ اس نے جواب دیا: اے میرے بھائی! ضرور ذکر کرو، شاید جو میرے جی میں ہے وہ ویسا ہی ہو جیسا تمہارے دل میں ہے، چنانچہ وہ دونوں اس (عورت کے) معاملے پر متفق ہو گئے۔ تب اس عورت نے ان سے کہا: میں تمہاری بات ہرگز نہیں مانوں گی جب تک تم مجھے وہ (کلمہ) نہ بتا دو جس کے ذریعے تم آسمان پر چڑھتے ہو اور جس کے ذریعے زمین پر اترتے ہو۔ ان دونوں نے کہا: «بِاسْمِ اللهِ الْأَعْظَمِ نَهْبِطُ، وَبِهِ نَصْعَدُ» ”ہم اللہ کے اسمِ اعظم کے ذریعے (زمین پر) اترتے ہیں اور اسی کے ذریعے (آسمان پر) چڑھتے ہیں“۔ اس عورت نے کہا: ”میں تمہاری مطلوبہ خواہش اس وقت تک پوری نہیں کروں گی جب تک تم مجھے وہ (اسمِ اعظم) سکھا نہیں دیتے“۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ”اسے یہ سکھا دو“۔ دوسرے نے کہا: ”اللہ کے سخت عذاب کے معاملے میں ہمارا کیا بنے گا؟“ تو پہلے نے جواب دیا: ”ہم اللہ عزوجل کی رحمت کی وسعت کی امید رکھتے ہیں“۔ چنانچہ ان دونوں نے اسے وہ کلمہ سکھا دیا، پس اس نے وہ کلمہ پڑھا اور آسمان کی طرف اڑ گئی۔ اس کے اوپر چڑھنے کی وجہ سے ایک فرشتہ (ہیبت سے) گھبرا گیا اور اس نے اپنا سر جھکا لیا، چنانچہ وہ اس کے بعد پھر کبھی (اطمینان سے) نہیں بیٹھا، اور اللہ تعالیٰ نے اس عورت کو مسخ کر دیا اور وہ ایک ستارہ بن گئی“۔
اس روایت کی سند صحیح ہے اور یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول (موقوف) ہے، تاہم اس کا متن اسرائیلی روایات سے ماخوذ معلوم ہوتا ہے۔