❮
❯
حدیث نمبر: 3521
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ دَاوُدَ ابْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : نَزَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالرَّوْحَاءِ فَرَأَى أُنَاسًا يَبْتَدِرُونَ أَحْجَارًا فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : يَقُولُونَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى إِلَى هَذِهِ الْأَحْجَارِ . فَقَالَ : سُبْحَانَ اللهِ مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا رَاكِبًا مَرَّ بِوَادٍ ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى ، ثُمَّ حَدَّثَ فَقَالَ : إِنِّي كُنْتُ أَغْشَى الْيَهُودَ يَوْمَ دِرَاسَتِهِمْ فَقَالُوا : مَا مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ أَكْرَمُ عَلَيْنَا مِنْكَ ; لِأَنَّكَ تَأْتِينَا . قُلْتُ : مَا ذَاكَ إِلَّا أَنِّي أَعْجَبُ مِنْ كُتُبِ اللهِ تَعَالَى كَيْفَ يُصَدِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، كَيْفَ تُصَدِّقُ التَّوْرَاةُ الْفَرْقَانَ ، وَالْفَرْقَانُ التَّوْرَاةَ ، فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَأَنَا أُكَلِّمُهُمْ فَقُلْتُ : أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ وَمَا تَقْرَؤُونَ مِنْ كِتَابِهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ .
فَقُلْتُ : هَلَكْتُمْ ، وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ ، ثُمَّ لَا تَتْبَعُونَهُ ؟ فَقَالُوا : لَمْ نَهْلِكْ ، وَلَكِنْ سَأَلْنَاهُ مَنْ يَأْتِيهِ بِنُبُوَّتِهِ ؟ فَقَالَ : عَدُوُّنَا جِبْرِيلُ ; لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ يَنْزِلُ بِالشِّدَّةِ وَالْغِلْظَةِ وَالْحَرْبِ وَالْهَلَاكِ وَنَحْوِ هَذَا . فَقُلْتُ : فَمَنْ سِلْمُكُمْ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ؟ فَقَالُوا : مِيكَائِيلُ يَنْزِلُ بِالْقَطْرِ وَالرَّحْمَةِ وَكَذَا . قُلْتُ : وَكَيْفَ مَنْزِلَتُهُمَا مِنْ رَبِّهِمَا ؟ فَقَالُوا : أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَالْآخَرُ مِنَ الْجَانِبِ الْآخَرِ . قُلْتُ : فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِجِبْرِيلَ أَنْ يُعَادِيَ مِيكَائِيلَ ، وَلَا يَحِلُّ لِمِيكَائِيلَ أَنْ يُسَالِمَ عَدُوَّ جِبْرِيلَ ، وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنَّهُمَا وَرَبَّهُمَا سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمُوا ، وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبُوا . ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَهُ ، فَلَمَّا لَقِيتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكَ بِآيَاتٍ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ ؟ " قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ . فَقَرَأَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَـزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَاللهِ مَا قُمْتُ مِنْ عِنْدِكَ إِلَّا إِلَيْكَ لِأُخْبِرَكَ بِمَا قَالُوا لِي وَقُلْتُ لَهُمْ ، فَوَجَدْتُ اللهَ تَعَالَى قَدْ سَبَقَنِي .
قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَأَنَا أَشَدُّ فِي اللهِ مِنَ الْحَجَرِ
هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ .
ترجمہ

امام شعبی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مقامِ روحاء میں قیام پذیر ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ چند پتھروں کی طرف (برکت کے لیے) لپک رہے ہیں، انہوں نے پوچھا: ”یہ کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: ”لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان پتھروں کے پاس نماز پڑھی تھی۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ پاک ہے!“ رسول اللہ ﷺ تو محض ایک مسافر سوار تھے جو کسی وادی سے گزرے، پس جب وہاں نماز کا وقت ہوا تو آپ ﷺ نے نماز ادا فرما لی، پھر انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”میں یہودیوں کے پاس ان کے درس و تدریس کے دن جایا کرتا تھا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کے ساتھیوں میں کوئی بھی ہمیں آپ سے زیادہ معزز نہیں لگتا کیونکہ آپ (مسلسل) ہمارے پاس تشریف لاتے ہیں۔ میں نے کہا: یہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں، کس طرح تورات فرقان (قرآن) کی اور فرقان تورات کی تصدیق کرتا ہے؟ پھر ایک دن نبی کریم ﷺ وہاں سے گزرے جبکہ میں یہودیوں سے گفتگو کر رہا تھا، تو میں نے ان سے کہا: میں تمہیں اللہ کا اور اس کی اس کتاب کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جو تم پڑھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ یہ اللہ کے رسول ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
میں نے کہا: تم تو ہلاک ہو گئے! اللہ کی قسم! اگر تم جانتے ہو کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور پھر بھی ان کی پیروی نہیں کرتے (تو تم برباد ہوئے)؟ انہوں نے کہا: ہم ہلاک نہیں ہوئے، بلکہ ہم نے ان سے پوچھا تھا کہ ان کے پاس پیغامِ نبوت لے کر کون آتا ہے؟ تو انہوں نے کہا تھا: ہمارا دشمن جبریل؛ کیونکہ وہ سختی، درشتی، جنگ اور ہلاکت جیسی چیزیں لے کر نازل ہوتا ہے۔ میں نے پوچھا: تو فرشتوں میں تمہارا دوست کون ہے؟ انہوں نے کہا: میکائیل جو بارش اور رحمت وغیرہ لے کر اترتے ہیں۔ میں نے پوچھا: ان دونوں کا اپنے رب کے ہاں کیا مقام ہے؟ انہوں نے کہا: ان میں سے ایک اس کے دائیں جانب ہے اور دوسرا دوسری جانب۔ میں نے کہا: تو جبریل کے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ وہ میکائیل سے دشمنی رکھیں اور نہ ہی میکائیل کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ جبریل کے دشمن سے صلح رکھیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ دونوں اور ان کا رب ان لوگوں کے لیے باعثِ سلامتی ہیں جو ان سے سلامتی رکھیں، اور ان کے لیے اعلانِ حرب ہیں جو ان سے دشمنی کریں۔ پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ ﷺ کو اس کی خبر دوں، جب میں آپ ﷺ سے ملا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان آیات کی خبر نہ دوں جو (ابھی) مجھ پر نازل ہوئی ہیں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَى قَلْبِكَ بِإِذْنِ اللَّهِ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُدًى وَبُشْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ﴾ [سورة البقرة: 97] میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں وہاں سے اٹھ کر آپ ہی کی طرف آیا تھا تاکہ آپ کو ان کی اور اپنی گفتگو کے بارے میں بتاؤں، لیکن میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے سبقت لے گئے ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تحقیق میں نے خود کو پایا کہ میں اللہ کے معاملے میں پتھر سے بھی زیادہ سخت تھا“
یہ حدیث مرسل ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب التفسير / حدیث: 3521
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»