المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
بَابُ عقاب مِنْ تعلم القرآن ثُمَّ نسيه باب: قرآن سیکھ کر بھول جانے والے کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3504
( وَثَنَا ) يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي كَنَفٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ الْقَارِئُ سَمِينًا .
قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ : قَالَ عَبْدُ اللهِ : إِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ أَرَى الْقَارِئَ سَمِينًا نَسِيًّا لِلْقُرْآنِ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ قرآنِ کریم کا قاری (دنیاوی آسائشوں میں مگن ہو کر) موٹا اور فربہ جسم والا ہو۔“
راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے اس بات کا تذکرہ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا اصل قول یہ تھا: ”یقیناً میں اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہوں کہ میں کسی قاری کو اس حال میں دیکھوں کہ وہ (غفلت و تعیش کی وجہ سے) موٹا تازہ ہو اور وہ قرآن کو بھولنے والا ہو۔“