المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
بَابُ عقاب مِنْ تعلم القرآن ثُمَّ نسيه باب: قرآن سیکھ کر بھول جانے والے کی سزا کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ قَالَ : إِنَّ أَبَا مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَمَعَ الَّذِينَ قَرَؤُوا الْقُرْآنَ ، فَإِذَا هُمْ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِمِائَةٍ ، فَعَظَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ كَائِنٌ لَكُمْ أَجْرًا ، وَكَائِنٌ لَكُمْ ذُخْرًا ، وَكَائِنٌ عَلَيْكُمْ وِزْرًا ، فَاتَّبِعُوا الْقُرْآنَ وَلَا يَتَّبِعْكُمُ الْقُرْآنُ ، فَإِنَّهُ مَنِ اتَّبَعَ الْقُرْآنَ هَبَطَ بِهِ عَلَى رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، وَمَنِ اتَّبَعَهُ الْقُرْآنُ زَخَّ فِي قَفَاهُ فَقَذَفَهُ فِي النَّارِ .سیدنا ابو کنانہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو جمع کیا جنہوں نے قرآن مجید حفظ کر رکھا تھا، ان کی تعداد تقریباً تین سو کے قریب تھی، پس آپ رضی اللہ عنہ نے قرآنِ کریم کی عظمت و منزلت بیان کی اور پھر فرمایا: ”یقیناً یہ قرآن تمہارے لیے باعثِ اجر و ثواب ہے، تمہارے لیے (آخرت کا) ذخیرہ ہے اور (اعمال کی خرابی کی صورت میں) تمہارے لیے وبالِ جان بھی ہے؛ لہٰذا تم قرآن کی اتباع و پیروی کرو اور قرآن کو اپنے پیچھے نہ لگاؤ، کیونکہ جس شخص نے قرآن کی پیروی کی تو یہ اسے جنت کے شاداب باغات میں اتار دے گا، اور جس کے پیچھے قرآن لگ گیا (یعنی جس نے قرآن کو پسِ پشت ڈال دیا اور قرآن اس کے حقوق کا مطالبہ کرے گا) تو یہ اس کی گدی پر دھکا دے کر اسے آگ میں جھونک دے گا۔“
اس اثر کی سند جید ہے۔