المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ القراء باب: قراءِ کرام کی فضیلت و منقبت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِي ، ثَنَا دَاوُدُ أَبُو بَحْرٍ ، عَنْ صِهْرٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ مُسْلِمُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : قَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْهَرْ بِقِرَاءَتِهِ ، فَإِنَّهُ يَطِيرُ بِجَهْرِ قِرَاءَتِهِ الشَّيْطَانُ وَفُسَّاقُ الْجِنِّ ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ فِي الْهَوَاءِ وَسُكَّانَ الدَّارِ يَسْتَمِعُونَ لِقِرَاءَتِهِ وَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ ، فَإِذَا مَضَتْ هَذِهِ اللَّيْلَةُ وَأَقْبَلَتِ الْمَلَائِكَةُ الْمُسْتَأْنَفَةُ فَتَقُولُ : نَبِّهِيهِ لِسَاعَتِهِ ، وَكُونِي عَلَيْهِ خَفِيفَةً ، فَإِذَا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ جَاءَ الْقُرْآنُ فَوَقَفَ عِنْدَ رَأْسِهِ وَهُمْ يُغَسِّلُونَهُ ، فَإِذَا فُرِغَ مِنْهُ ، دَخَلَ حَتَّى صَارَ بَيْنَ صَدْرِهِ وَكَفَنِهِ ، فَإِذَا وُضِعَ فِي حُفْرَتِهِ وَجَاءَهُ مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ ، خَرَجَ الْقُرْآنُ حَتَّى صَارَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمَا ، فَيَقُولَانِ لَهُ : إِلَيْكَ عَنَّا ، فَإِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَسْأَلَهُ ، فَيَقُولُ : وَاللهِ مَا أَنَا بِمُفَارِقِهِ
قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَفِي كِتَابِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَمَّادٍ إِلَى هَذَا الْحَرْفِ : حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، فَإِنْ كُنْتُمَا أُمِرْتُمَا فِيهِ بِشَيْءٍ فَشَأْنُكُمَا بِهِ ، ثُمَّ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَيَقُولُ : هَلْ تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ : لَا وَاللهِ ، فَيَقُولُ : أَنَا الْقُرْآنُ الَّذِي كُنْتُ أُسْهِرُ لَيْلَكَ وَأُظْمِئُ نَهَارَكَ وَأَمْنَعُكَ شَهْوَتَكَ وَسَمْعَكَ وَبَصَرَكَ ، فَتَجِدُنِي مِنَ الْأَخِلَّاءِ خَلِيلَ صِدْقٍ ، وَمِنَ الْإِخْوَانِ أَخَا صِدْقٍ ، فَأَبْشِرْ ، فَمَا عَلَيْكَ بَعْدَ مَسْأَلَةٍ مِنْ مُنْكَرٍ وَنَكِيرٍ مِنْ هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ ، ثُمَّ يَخْرُجَانِ عَنْهُ ، فَيَصْعَدُ الْقُرْآنُ إِلَى رَبِّهِ فَيَسْأَلُ لَهُ فِرَاشًا وَدِثَارًا . قَالَ : فَيُؤْمَرُ لَهُ بِفِرَاشٍ وَدِثَارٍ وَقِنْدِيلٍ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيَاسَمِينٍ مِنْ يَاسَمِينِ الْجَنَّةِ ، فَيَحْمِلُهُ أَلْفُ مَلَكٍ مِنْ مُقَرَّبِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالَ : فَيَسْبِقُهُمْ إِلَيْهِ الْقُرْآنُ فَيَقُولُ : هَلِ اسْتَوْحَشْتَ بَعْدِي ؟ فَإِنِّي لَمْ أَزَلْ بِرَبِّي الَّذِي خَرَجْتُ مِنْهُ ، حَتَّى آمُرَ لَكَ بِفِرَاشٍ وَدِثَارٍ ، وَنُورٍ مِنْ نُورِ الْجَنَّةِ ، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ ، فَيَحْمِلُونَهُ وَيَفْرِشُونَ ذَلِكَ الْفِرَاشَ تَحْتَهُ ، وَيَضَعُونَ الدِّثَارَ تَحْتَ قَلْبِهِ ، وَالْيَاسَمِينَ عِنْدَ صَدْرِهِ ، ثُمَّ يَحْمِلُونَهُ حَتَّى يَضَعُونَهُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ يَصْعَدُونَ عَنْهُ فَيَسْتَلْقِي عَلَيْهِ ، فَلَا يَزَالُ يَنْظُرُ إِلَى الْمَلَائِكَةِ حَتَّى يَلْحَقُوا فِي السَّمَاءِ ، ثُمَّ يُرْفَعُ الْقُرْآنُ فِي نَاحِيَةِ الْقَبْرِ فَيُوَسَّعُ عَلَيْهِ مَا شَاءَ أَنْ يُوَسَّعَ مِنْ ذَلِكَ .
قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَكَانَ فِي كِتَابِ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَمَّادٍ إِلَيَّ ، فَيُوَسَّعُ مَسِيرَةَ أَرْبَعِمِائَةِ عَامٍ ، ثُمَّ يُحْمَلُ الْيَاسَمِينُ مِنْ عِنْدِ صَدْرِهِ فَيَجْعَلُهُ عِنْدَ أَنْفِهِ ، فَيَشُمُّهُ غَضًّا إِلَى يَوْمِ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ، ثُمَّ يَأْتِي أَهْلَهُ فِي كُلِّ يَوْمَيْنِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَيَأْتِيهِ بِخَبَرِهِمْ فَيَدْعُو لَهُمْ بِالْخَيْرِ وَالْإِقْبَالِ ، فَإِنَّ تَعَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ وَلَدِهِ الْقُرْآنَ بَشَّرَهُ بِذَلِكَ وَإِنْ كَانَ عَقِبُهُ عَقِيبَ سُوءٍ ، أَتَى الدَّارَ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً فَبَكَى عَلَيْهِ إِلَى يَوْمِ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ أَوْ كَمَا قَالَ " .سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رات کو (نماز کے لیے) کھڑا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ بلند آواز سے قرات کرے، کیونکہ اس کی بلند آواز سے قرات کرنے کی وجہ سے شیطان اور سرکش جن بھاگ جاتے ہیں، اور فضا میں موجود فرشتے اور گھر کے رہنے والے (مومن جن) اس کی قرات سماعت کرتے ہیں اور اس کی نماز کے ساتھ خود بھی نماز پڑھتے (یعنی دعا کرتے) ہیں۔ پھر جب یہ رات گزر جاتی ہے اور نئے آنے والے فرشتے (صبح کی ڈیوٹی کے لیے) آتے ہیں تو (پچھلے فرشتے) ان سے کہتے ہیں: اسے اس کے (عبادت کے خاص) وقت پر بیدار کرنا اور اس کے ساتھ نرمی برتنا۔ پھر جب اس کی وفات کا وقت قریب آتا ہے تو قرآنِ کریم (مجسم ہو کر) آتا ہے اور اس کے سرہانے کھڑا ہو جاتا ہے جبکہ لوگ اسے غسل دے رہے ہوتے ہیں، اور جب غسل سے فراغت ہو جاتی ہے تو قرآن (اس کے جسم میں) داخل ہو کر اس کے سینے اور کفن کے درمیان آ جاتا ہے۔ پھر جب اسے اس کے گڑھے (قبر) میں رکھا جاتا ہے اور منکر و نکیر اس کے پاس آتے ہیں، تو قرآن نکل کر اس شخص اور ان دونوں فرشتوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ وہ دونوں فرشتے قرآن سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے سامنے سے ہٹ جاؤ، کیونکہ ہم اس شخص سے سوال کرنا چاہتے ہیں، تو قرآن جواب دیتا ہے: اللہ کی قسم! میں اسے ہرگز نہیں چھوڑوں گا۔
ابو عبدالرحمن کہتے ہیں کہ معاویہ بن حماد کی کتاب میں اس جملے تک یہ الفاظ مروی ہیں: یہاں تک کہ میں اسے جنت میں داخل کر دوں، لہٰذا اگر تمہیں اس کے بارے میں (اللہ کی طرف سے) کوئی حکم دیا گیا ہے تو تم اپنا کام کرو۔ پھر قرآن اس (صاحبِ قبر) کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتا ہے: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ کی قسم! نہیں۔ تو قرآن کہتا ہے: میں وہی قرآن ہوں جس کی خاطر تم اپنی راتوں کو جاگا کرتے تھے اور اپنے دنوں میں (روزے رکھ کر) پیاسے رہا کرتے تھے، اور میں نے تمہیں تمہاری نفسانی خواہشات اور تمہارے کانوں اور آنکھوں (کے غلط استعمال) سے روکے رکھا تھا، پس آج تم مجھے تمام دوستوں میں سب سے سچا دوست اور تمام بھائیوں میں سب سے سچا بھائی پاؤ گے، اب تم خوش ہو جاؤ، کیونکہ منکر و نکیر کے سوالات کے بعد اب تم پر کسی قسم کا کوئی غم اور دکھ نہیں ہے۔ پھر وہ دونوں فرشتے وہاں سے رخصت ہو جاتے ہیں اور قرآن اپنے رب کی بارگاہ میں بلند ہوتا ہے اور اس (بندے) کے لیے بستر اور اوڑھنے کے لبادہ کا سوال کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: پھر اس کے لیے جنت کے بستر، چادر، قندیل اور جنت کی چنبیلی (یاسمین) فراہم کرنے کا حکم دیا جاتا ہے، جسے آسمانِ دنیا کے مقرب فرشتوں میں سے ایک ہزار فرشتے لے کر اترتے ہیں۔ انہوں نے کہا: قرآن ان فرشتوں سے پہلے ہی اس شخص کے پاس پہنچ جاتا ہے اور کہتا ہے: کیا میرے جانے کے بعد تمہیں وحشت محسوس ہوئی؟ میں اپنے اس رب کے حضور سے تبھی واپس آیا ہوں جس کا میں کلام ہوں، جب میں نے تمہارے لیے بستر، چادر اور جنت کے نور کا انتظام کروا لیا۔ پھر وہ فرشتے اس کے پاس داخل ہوتے ہیں، اسے (نرمی سے) اٹھاتے ہیں اور وہ بستر اس کے نیچے بچھا دیتے ہیں، چادر اس کے دل کے نیچے رکھ دیتے ہیں اور یاسمین (چنبیلی) اس کے سینے کے پاس رکھ دیتے ہیں۔ پھر وہ اسے اٹھا کر اس کی دائیں کروٹ پر لٹا دیتے ہیں، اس کے بعد وہ فرشتے وہاں سے اوپر چلے جاتے ہیں اور وہ (بندہ) آرام سے لیٹ جاتا ہے، اور وہ ان فرشتوں کو مسلسل (محبت سے) دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ آسمان میں روپوش ہو جاتے ہیں۔ پھر قرآن قبر کے ایک گوشے میں بلند ہو جاتا ہے اور اس (بندے) کی قبر کو اتنا وسیع کر دیا جاتا ہے جتنا اللہ چاہتا ہے۔
ابو عبدالرحمن کہتے ہیں کہ معاویہ بن حماد کی تحریر میں مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ: پھر اس کی قبر کو چار سو سال کی مسافت تک وسیع کر دیا جاتا ہے، پھر اس کے سینے کے پاس سے چنبیلی اٹھا کر اس کے ناک کے پاس رکھ دی جاتی ہے، جس کی تازگی اور خوشبو کو وہ صور پھونکے جانے کے دن تک سونگھتا رہے گا۔ پھر وہ قرآن ہر دو دن میں ایک یا دو بار اس کے گھر والوں کے پاس جاتا ہے اور اسے ان کی خبریں لا کر دیتا ہے، نیز وہ ان کے لیے خیر اور برکت کی دعا کرتا ہے، اگر اس کی اولاد میں سے کوئی قرآن سیکھ لے تو وہ اسے اس کی خوشخبری دیتا ہے، اور اگر اس کی اولاد بری نکلے تو وہ قرآن صبح و شام اس کے گھر آتا ہے اور صور پھونکے جانے کے دن تک اس (کی حالت) پر روتا رہتا ہے یا جیسا کہ انہوں نے (راوی نے) بیان فرمایا۔“